مفتی صاحب!
ہمارے ایک دوست نے مسئلہ پوچھا ہے کہ ان کے پاس دو تین سو بھینسیں ہیں وہ ان کا دودھ بیچتے ہیں تو کیا ان بھینسوں پر زکوۃ آئے گی ؟
واضح رہے کہ زکوٰۃ صرف اُن جانوروں پر فرض ہے جو تجارت کے لیے ہوں، یا سال بھر چراگاہ میں چرتے ہوں، وہ جانور جنہیں مالک خود چارہ کھلاتا ہے اور وہ بیچنے کے لیے نہ ہوں، بلکہ صرف دودھ کے لیےخریدے گئے ہوں، ان پر زکوٰۃ نہیں ، البتہ ان کے دودھ یا اس سے حاصل ہونے والی آمدنی پر جب ایک سال گزر جائے تو اس کی زکوٰۃ ادا کرنا واجب ہوگی۔
*الشامية:(275/2،ط: دارالفكر)*
باب السائمة (هي) الراعية، وشرعا (المكتفية بالرعي) المباح، ذكره الشمني (في أكثر العام لقصد الدر والنسل) ذكره الزيلعي، وزاد في المحيط (والزيادة والسمن) ليعم الذكور فقط لكن في البدائع لو أسامها للحم فلا زكاة.
(قوله بالرعي) بفتح الراء مصدر وبكسرها الكلأ نفسه والمناسب الأول؛ إذ لو حمل الكلأ إليها في البيت لا تكون سائمة بحر قال في النهر: وأقول الكسر هو المتداول على الألسنة، ولا يلزم عليه أن تكون سائمة لو حمله إليها إلا لو أطلق الكلأ على المنفصل. ولقائل منعه، بل ظاهر قول المغرب الكلأ هو كل ما رعته الدواب من الرطب، واليابس يفيد اختصاصه بالقائم في معدنه، ولم تكن به سائمة؛ لأنه ملكه بالحوز فتدبره.
*أيضاً:(280/2،ط: دارالفكر)*
قوله: سائمة) نعت لثلاثون فهو مرفوع ويجوز النصب على التمييز ح فلو علوفة فلا زكاة فيها إلا إذا كانت للتجارة فلا يعتبر فيها العدد بل القيمة.
*الهندية:(176/1،ط: دارالفكر)*
كذا في محيط السرخسي حتى لو علفها نصف الحول لا تكون سائمة، ولا تجب فيها الزكاة.