زکوۃ و نصاب زکوۃ

قرض دیے ہوئے پیسوں پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
1504
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

قرض دیے ہوئے پیسوں پر زکوۃ کا حکم

مفتی صاحب!
ایک مسئلہ زکوٰۃ کے بارے میں معلوم کرنا تھا: اگر کسی شخص نے کسی کو رقم قرض (ادھار) دی ہو اور اس رقم پر ایک سال گزر جائے، لیکن وہ رقم ابھی تک واپس نہ ملی ہو تو کیا اس رقم کی بھی زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر کسی کو قرض کے طور پر دی گئی رقم کی واپسی کی امید ہو تو شرعاً اس رقم پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، البتہ زکوٰۃ کی ادائیگی اُس وقت لازم ہوگی جب وہ رقم واپس مل جائے، اسے فوراً ادا کرنا ضروری نہیں، بلکہ حسبِ سہولت بعد میں بھی ادا کی جاسکتی ہے۔

حوالہ جات

*الدرالمختار مع رد المحتار:(305/2،ط: دارالفکر)*
اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف (فتجب) زكاتها إذا تم نصاباً وحال الحول، لكن لا فوراً بل (عند قبض أربعين درهماً من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهماً يلزمه درهم.

(قوله: عند قبض أربعين درهماً) قال في المحيط؛ لأن الزكاة لاتجب في الكسور من النصاب الثاني عنده ما لم يبلغ أربعين للحرج، فكذلك لايجب الأداء ما لم يبلغ أربعين للحرج. وذكر في المنتقى: رجل له ثلثمائة درهم دين حال عليها ثلاثة أحوال فقبض مائتين، فعند أبي حنيفة يزكي للسنة الأولى خمسة وللثانية والثالثة أربعة أربعة من مائة وستين، ولا شيء عليه في الفضل؛ لأنه دون الأربعين.

*بدائع الصنائع:(9/2 ،ط: دار الکتب العلمیة)*
ومنها الملك المطلق... فلا تجب الزكاة في المال الضمار عندنا خلافا لهما.وتفسير مال الضمار هو كل مال غير مقدور الانتفاع به مع قيام أصل الملك كالعبد الآبق والضال، والمال المفقود، والمال الساقط في البحر، والمال الذي أخذه السلطان مصادرة، والدين المجحود...

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
62
فتوی نمبر 1504کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --