مفتی صاحب!
میں نے کسی شخص کو قرض کے طور پر کچھ رقم دی تھی، وہ شخص اب رقم واپس نہیں کر رہا۔ آخرکار میں نے اس کے لیے ایک طریقہ اختیار کیا اور کہا کہ یہ رقم مجھے واپس دے دو، میں اسے تمہیں زکات میں دے دوں گا۔
سوال یہ ہے کہ کیا اس طریقے سے دی جانے والی زکات شرعی طور پر صحیح ہوگی؟ اور اس کے بارے میں کوئی حوالہ بھی ہو تو بیان کریں۔
اگر کسی شخص کا کسی غریب مستحقِ زکوۃ شخص پر قرض ہو تو پہلے سے دیے گئے قرض کو زکوۃ میں شمار کرنا درست نہیں، کیونکہ زکوۃ کی نیت مال دیتے وقت یا مال کو الگ کرتے وقت ضروری ہے، البتہ اگر مقروض واقعی مستحق ہو تو پہلے زکاۃ کی رقم دے کر اسے مالک بنائیں، پھر اس سے اپنا قرضہ وصول کر لیں، اس طرح دینے والے کی زکاۃ بھی ادا ہو جائے گی اور مقروض کا قرض بھی ادا ہو جائے گا، یا مقروض کسی تیسرے شخص سے عارضی قرض لے کر اصل قرض خواہ کو ادا کرے، قرض خواہ وہی رقم اپنی زکاۃ کی مد میں دوبارہ اسی مستحق کو دے دے اور مقروض تیسرے شخص کو رقم واپس کر دے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ کا مقروض سے کہنا کہ میرا قرض مجھے واپس دے دو میں تمھیں یہ رقم دوبارہ زکوۃ میں دے دوں گا ،صحیح ہے، اس طرح کرنے سے زکوۃ ادا ہو جائے گی۔
*الدر المختار:(268/2،ط: دارالفكر)*
(وشرط صحة أدائها نية مقارنة له) أي للأداء (ولو) كانت المقارنة (حكما) كما لو دفع بلا نية ثم نوى والمال قائم في يد الفقير، أو نوى عند الدفع للوكيل ثم دفع الوكيل بلا نية.
*الشامية:(268/2،ط: دارالفكر)*
(قوله: وشرط صحة أدائها إلخ) قد علم اشتراط النية من قوله أولا لله تعالى، لكن ذكرت هنا لبيان تفاصيلها أفاده في البحر (قوله نية) أشار إلى أنه لا اعتبار للتسمية؛ فلو سماها هبة أو قرضا تجزيه في الأصح، وإلى أنه لو نوى الزكاة والتطوع وقع عنها عند الثاني لأن نية الفرض أقوى وعند الثالث يقع عنه، وإلى أنه ليس للفقير أخذها بلا علمه إلا إذا لم يكن في قرابته أو قبيلته أحوج منه فيضمن حكما لا ديانة، وإلى أن الساعي لو أخذها منه كرها لا يسقط الفرض عنه في الأموال الباطنة.
*البحر الرائق:(226/2،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
(قوله وشرط أدائها نية مقارنة للأداء أو لعزل ما وجب أو تصدق بكله) بيان لشرط الصحة فإن شرائطها ثلاثة أنواع: شرائط وجوب، وهي ما ذكره إلا الحول، فإنه من شروط وجوب الأداء بدليل جواز التعجيل قبله بعد وجود السبب وأما النية فهي شرط الصحة لكل عبادة كما قدمناه وقد علمت من قوله أولا لله تعالى لكن المراد هنا بيان تفاصيلها، والأصل اقترانها بالأداء كسائر العبادات إلا أن الدفع يتفرق فيخرج باستحضار النية عند كل دفع فاكتفى بوجودها حالة العزل دفعا للحرج.