مفتی صاحب!
میرے پاس سونے کا سیٹ تھا، میرے شوہر کو پیسوں کی ضرورت تھی تو میں نے اپنے شوہر کو دے دیا اور یہ طے نہیں کیا کہ واپسی کب دے گا، بس یہ کہا کہ زندگی آگے پڑی ہے، کبھی بھی بنا کر دے دیں گے۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا مجھ پر اس سیٹ کی زکوة واجب ہوگی؟
واضح رہے کہ اگر کسی خاتون کے پاس صرف سونا ہو اور اس کی مقدار ساڑھے سات تولہ سے کم ہو، جبکہ اس کے علاوہ چاندی، نقد رقم، مالِ تجارت کچھ بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں اس پر زکوة واجب نہیں۔
البتہ اگر اس کے پاس سونے کے ساتھ دیگر اموال بھی ہوں جن کی مجموعی مالیت نصاب کو پہنچ جائے تو وہ صاحبِ نصاب شمار ہوگی۔
ایسی صورت میں اگر وہ اپنا سونا شوہر کو بطورِ قرض دے دیتی ہے اور اس کے واپس ملنے کی امید بھی ہو تو جب وہ قرض واپس مل جائے، خواہ سونے کی شکل میں ملے یا نقد رقم کی صورت میں، زکوة کی ادائیگی لازم ہوگی۔
*الدر المختار مع رد المحتار:(305/2،ط: دار الفکر)*
(و) اعلم أن الديون عند الإمام ثلاثة: قوي، ومتوسط، وضعيف (فتجب) زكاتها إذا تم نصاباً وحال الحول، لكن لا فوراً بل (عند قبض أربعين درهماً من الدين) القوي كقرض (وبدل مال تجارة) فكلما قبض أربعين درهماً يلزمه درهم.
(قوله: عند قبض أربعين درهماً) قال في المحيط؛ لأن الزكاة لاتجب في الكسور من النصاب الثاني عنده ما لم يبلغ أربعين للحرج، فكذلك لايجب الأداء ما لم يبلغ أربعين للحرج. وذكر في المنتقى: رجل له ثلثمائة درهم دين حال عليها ثلاثة أحوال فقبض مائتين، فعند أبي حنيفة يزكي للسنة الأولى خمسة وللثانية والثالثة أربعة أربعة من مائة وستين، ولا شيء عليه في الفضل؛ لأنه دون الأربعين.
*المحیط البرہانی:(303/2،ط:دارالکتب العلمیة)*
یجب ان یعلم بأن من علیہ الدین لایخلوا اما ان یکون مقرا بالدین او جاحداً لہ واما ان یکون ملیئاً او مفلساً، فان کان ملیئاً وکان مقراً بالدین، فلا یخلوا اما ان وجب الدین بدلاً عما ھو مال التجارۃ، کبدل الدراھم والدنانیر، وعروض التجارۃ، وما أشبھہ وھو الدین القویّ، او وجب بدلاً عما ھو مال، الا انہ لیس للتجارۃ، کثمن عبید الخدمۃ وما أشبھہ وھو الدین الوسط، او وجب بدلا عمّا ھو لیس بمال کالمھر، والدیۃ، وبدل الخلع والصلح عن دم العمد، وما أشبھہ وھو الدین الضعیف، وما وجب بدلا عما ھو مال التجارۃ، فحکمہ عند ابی حنیفۃ ان یکون نصاباً قبل القبض، تجب فیہ الزکاۃ، ولکن لا یجب فیہ الاداء مالم یقبض منہ اربعین درھماً، وما وجب بدلاً عما ھو مال الا انہ لیس للتجارۃ، فحکمہ فی روایۃ عنہ انہ لا یکون نصاباً قبل القبض، وعلی ھذہ الروایۃ اعتمد الکرخی وفی روایۃ الاصل عنہ انہ یکون نصاباً قبل القبض یجب فیہ الزکاۃ، ولکن لا یجب فیہ الاداء مالم یقبض منہ مائتی درھم، وما وجب بدلا عما لیس بمال فحکمہ علی قولہ الاوّل انہ یکون نصاباً قبل القبض، وعلی قولہ الاٰخر لا یکون نصاباً قبل القبض وھو الصحیح.
*الھدایة:(102/1،ط: دار احیاء التراث العربي)*
ليس فيما دون عشرين مثقالا من الذهب صدقة، فإذا كانت عشرين مثقالا ففيها نصف مثقال.