آمدنی و مصارف

چوری کیے ہوئے مال كاحكم

فتوی نمبر :
1307
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

چوری کیے ہوئے مال كاحكم

اگر کسی شخص نے کسی آدمی کے پیسے چوری کیے ہوں اور وہ آدمی فوت ہو گیا ہو، تو اب وہ چوری کرنے والا ان پیسوں کا کیا کرے؟کیا وہ رقم مرحوم کی اولاد کو واپس دے، یا اس کے نام پر صدقہ کر دے، یا کسی خیراتی ادارے میں دے دے؟کون سا طریقہ شریعت کے لحاظ سے درست اور بہتر ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ چوری کیا ہوا مال اصل مالک کو واپس کرنا واجب ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر مالک فوت ہوچکا ہے تو اس کا مال اس کے ورثا کو واپس کرنا لازم ہے۔

حوالہ جات

*الشامية: (6/ 385،دارالفكر)*
قالوا لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة ‌يتورع ‌الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه.

*تبيين الحقائق: (6/ 27،ط:دارالكتاب الاسلامي):*
قالوا لو مات رجل، وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة ‌يتورع ‌الورثة، ولا يأخذوا منه شيئا، وهو أولى لهم، ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها؛ لأن سبيل الكسب الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
63
فتوی نمبر 1307کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --