کیا فرماتے ہیں مفتیا ن کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیازکوۃ سال ختم ہونے سے پہلے ہر ماہ دینے والے کو بتائیں بغیر زکوۃ کی رقم ادا کی جاسکتی ہے ؟
)واضح رہے کہ زکوۃ واجب ہونے کے لیے مال پر سال کا گزرنا لازمی اور شرط ہے ، تاہم اگر کوئی سال پورا ہونے سے پہلے زکوۃ ادا کرتا ہے توبھی جائز ہے ، نیزجس طرح پورے مال کی زکوۃ ایک ساتھ ادا کرنا جائز ہے اسی طرح قسط وار ادا کرنا بھی جائز ہے ۔۲)جس کوزکوۃ دی جائے اس کو بتانا ضروری نہیں کہ یہ زکوۃ کامال ہے ۔
سنن أبي داود: (3/ 66 ، رقم الحديث : 1624،دار الرسالة العالمية )
عن علي: أن العباس سأل النبي صلى الله عليه وسلم في تعجيل صدقته قبل أن تحل، فرخص في ذلك.
الدرالمختارمع رد المحتار :(2/ 268، ط: دارالفكر)
(وشرط صحة أدائها نية مقارنة له) أي للأداء (ولو) كانت المقارنة (حكما) كما لو دفع بلا نية ثم نوى والمال قائم في يد الفقير، أو نوى عند الدفع للوكيل ثم دفع الوكيل بلا نية(قوله مقارنة) هو الأصل كما في سائر العبادات، وإنما اكتفي بالنية عند العزل كما سيأتي لأن الدفع يتفرق فيتخرج باستحضار النية عند كل دفع فاكتفى بذلك للحرج بحر، والمراد مقارنتها للدفع إلى الفقير، وأما المقارنة للدفع إلى الوكيل فهي من الحكمية كما يأتي .