کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسلمان مرد کیتھولک عیسائی لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہے اسلام میں ا سکی اجازت ہے یانہیں ؟
واضح رہے کہ کتابیہ ( عیسائی ، یہودی ) سے شادی کرنے کی درج ذیل شرائط کے ساتھ اجازت ہے۔
(الف) لڑکی اصلا یہودی یا عیسائی ہو یعنی اسلام سے مرتد ہو کر یہودی یا عیسائی نہ بنی ہو ۔
(ب) کسی آسمانی کتاب پر ایمان بھی رکھتی ہو محض نام کی عیسائی یا یہودی نہ ہو ۔
البتہ غیر مسلموں کے ساتھ شادی کرنے کے بے شمار مفاسد ہیں جس کی وجہ سےعلماء کرام نے ان کے ساتھ نکاح کو مکروہ اور ناپسندیدہ اور ناجائز تک کہاہے ، بہتر یہ ہے کہ کسی مسلمان ،دیندار ، حیادار لڑکی سے شادی کی جائے ۔
الشامية : (3/ 45، ط: دارالفكر)
(قوله: كتابية) أطلقه فشمل الحربية والذمية والحرة والأمة ح عن البحر (قوله: وإن كره تنزيها) أي سواء كانت ذمية أو حربية، فإن صاحب البحر استظهر أن الكراهة في الكتابية الحربية.
الهندية (1/ 281، ط: دارالفكر)
ويجوز للمسلم نكاح الكتابية الحربية والذمية حرة كانت أو أمة، كذا في محيط السرخسي. والأولى أن لا يفعل ولا تؤكل ذبيحتهم إلا لضرورة، كذا في فتح القدير .