نکاح

عیسائی لڑکی سے شادی کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
1453
معاملات / احکام نکاح / نکاح

عیسائی لڑکی سے شادی کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مسلمان مرد کیتھولک عیسائی لڑکی سے نکاح کرنا چاہتا ہے اسلام میں ا سکی اجازت ہے یانہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کتابیہ ( عیسائی ، یہودی ) سے شادی کرنے کی درج ذیل شرائط کے ساتھ اجازت ہے۔
(الف) لڑکی اصلا یہودی یا عیسائی ہو یعنی اسلام سے مرتد ہو کر یہودی یا عیسائی نہ بنی ہو ۔
(ب) کسی آسمانی کتاب پر ایمان بھی رکھتی ہو محض نام کی عیسائی یا یہودی نہ ہو ۔
البتہ غیر مسلموں کے ساتھ شادی کرنے کے بے شمار مفاسد ہیں جس کی وجہ سےعلماء کرام نے ان کے ساتھ نکاح کو مکروہ اور ناپسندیدہ اور ناجائز تک کہاہے ، بہتر یہ ہے کہ کسی مسلمان ،دیندار ، حیادار لڑکی سے شادی کی جائے ۔

حوالہ جات

الشامية : (3/ 45، ط: دارالفكر)
(قوله: كتابية) أطلقه فشمل الحربية والذمية والحرة والأمة ح عن البحر (قوله: وإن كره تنزيها) أي سواء كانت ‌ذمية ‌أو ‌حربية، فإن صاحب البحر استظهر أن الكراهة في الكتابية الحربية.

الهندية (1/ 281، ط: دارالفكر)
ويجوز للمسلم نكاح الكتابية ‌الحربية ‌والذمية حرة كانت أو أمة، كذا في محيط السرخسي. والأولى أن لا يفعل ولا تؤكل ذبيحتهم إلا لضرورة، كذا في فتح القدير .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
32
فتوی نمبر 1453کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --