احکام حج

عورت کا اپنے رضاعی باپ کے ساتھ حج کے لیے جانا

فتوی نمبر :
1724
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

عورت کا اپنے رضاعی باپ کے ساتھ حج کے لیے جانا

لڑکی کا اپنے رضاعی باپ کے ساتھ حج کےلیےجانا کیساہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ رضاعی باپ محرم ہے ، اگر فتنے کا اندیشہ نہ ہو تو رضاعی باپ کے ساتھ سفر کرنا یا حج اور عمرے کے لیے جانا جائز ہے۔

حوالہ جات

*درر الحكام:(1/ 217،ط:دار إحياء الكتب العربية)*
(ومحرم أو زوج لامرأة في مسيرة سفر) المحرم من لا يحل له نكاحها على التأبيد ‌بقرابة ‌أو ‌رضاع ‌أو ‌مصاهرة.

*الهندية:(1/ 219،ط:دارالفکر)*
ومن لا يجوز مناكحتها على التأبيد ‌بقرابة ‌أو ‌رضاع ‌أو ‌مصاهرة كذا في الخلاصة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
54
فتوی نمبر 1724کی تصدیق کریں
-- متعلقه موضوعات --