لڑکی کا اپنے رضاعی باپ کے ساتھ حج کےلیےجانا کیساہے؟
واضح رہے کہ رضاعی باپ محرم ہے ، اگر فتنے کا اندیشہ نہ ہو تو رضاعی باپ کے ساتھ سفر کرنا یا حج اور عمرے کے لیے جانا جائز ہے۔
*درر الحكام:(1/ 217،ط:دار إحياء الكتب العربية)*
(ومحرم أو زوج لامرأة في مسيرة سفر) المحرم من لا يحل له نكاحها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو مصاهرة.
*الهندية:(1/ 219،ط:دارالفکر)*
ومن لا يجوز مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو مصاهرة كذا في الخلاصة.