احکام حج

حاجیوں کے لیے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی سنتیں پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
2228
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

حاجیوں کے لیے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی سنتیں پڑھنے کا حکم

السلام علیکم مفتی صاحب !
کیا مزدلفہ میں حجاج کرام کو مغرب اور عشاء کی نماز پڑھنے کے بعد سنتیں اور وتر پڑھنا ضروری ہیں یانہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مزدلفہ پہنچ کر مغرب اور عشاء کی نمازپڑھنے کے بعد وتر کی نماز مسافر کے لیے بھی ضروری ہے ، البتہ مسافر کو سنتیں پڑھنے اختیار ہے چاہے پڑھے یا نہ پڑھے ۔

حوالہ جات

الدرالمختار :(2/ 131، ط: دارالفكر)
(ويأتي) ‌المسافر (‌بالسنن) إن كان (في حال أمن وقرار وإلا) بأن كان في خوف وفرار (لا) يأتي بها هو المختار لأنه ترك لعذر تجنيس، قيل إلا سنة الفجر.

الهندية: (1/ 139، ط: دارالفكر)
وبعضهم جوزوا ‌للمسافر ‌ترك ‌السنن والمختار أنه لا يأتي بها في حال الخوف ويأتي بها في حال القرار والأمن، هكذا في الوجيز للكردري.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
15
فتوی نمبر 2228کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --