کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے یہاں یہ پابندی ہے کہ پانچ سال میں ایک مرتبہ حج کرنے کی اجازت ہوتی ہے اس کے لیے حکومت نے ایک حلف نامہ بنایا ہے ، اب ایک آدمی اس حلف نامہ میں غلط کوائف کا اندراج کرکے دوسری مرتبہ حج کے لیے جاتا ہے ۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ اس طرح حلف نامہ میں غلط بیانی کرناحج کے لیے درست ہے یا نہیں ؟نیز اس طرح کرنے سے حج ادا ہوجائے گا یا نہیں ؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں
واضح رہے کہ سعودی عرب حکومت نے جو قوانین حج کے لیے بنائے ہیں وہ عوام کی سہولت کے لیے ہیں ، لہذا ان کی پاسداری کرنا لازم ہے ، پوچھی گئی صورت میں حلف نامہ میں غلط بیانی کرناجھوٹ، دھوکہ اور فسق ہے جو کہ ناجائز اور گناہ ہے، تاہم اس طرح غیر قانونی طریقہ سےحج کرنے سے حج ادا ہوجائے گا ۔
القرأن الكريم :[النساء:/4 59]
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ .
صحيح مسلم:(6/ 13، رقم الحديث : 32 - (1835)، ط:دارطوق النجاة )
عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: « من أطاعني فقد أطاع الله، ومن يعصني فقد عصى الله، ومن يطع الأمير فقد أطاعني، ومن يعص الأمير فقد عصاني .
الشامىة : (7/ 535، ط: دارالفكر)
ولا فرق بين الكذب بالكتابة أو التكلم.قلنا: الكلام في كاتب غلب عليه الصلاح ومثله يحقق ثم يكتب.