مفتی صاحب !
کیا سود خور جو صاحب نصاب ہو اس پرحج فرض ہوتا ہے ؟
واضح رہے کہ سود کھانا ناجائز اور حرام ہے اور سود لینے اور دینے والوں پر لعنت کی گئی ہے، ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اس گناہ سے بچے، جو شخص سود میں مبتلا ہو، اس پر ضروری ہے کہ فوراً سچی توبہ کرے، اللہ تعالیٰ سے خوب استغفار کرے اور آئندہ کے لیے سود کو مکمل طور پر چھوڑنے کا پختہ عزم کرے، نیز جو سودی رقم اس کے پاس موجود ہو، اسے اپنے استعمال میں لانے کے بجائے کسی مستحق غریب کو دے دے، تاکہ اس مال سے جان چھوٹ جائے اور آئندہ حلال مال کمائے اور انہیں پیسوں سے حج کرے۔
اگر کسی نے سودی رقم سے حج یا عمرہ کر لیا تو ایسا حج یا عمرہ ادا تو ہوجائے گا، تاہم ثواب سے خالی ہوگا۔
*القرآن الکریم:(البقرہ:278:2)*
{یَا أَیُّهَا الَّذِیْنَ أٰمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَابَقِیَ مِنَ الرِّبوٰ إِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ، فَإِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَأْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِه}
*الشامية:(456/2،ط: دارالفكر)*
مطلب فيمن حج بمال حرام
(قوله كالحج بمال حرام) كذا في البحر والأولى التمثيل بالحج رياء وسمعة، فقد يقال إن الحج نفسه الذي هو زيارة مكان مخصوص إلخ ليس حراما بل الحرام هو إنفاق المال الحرام، ولا تلازم بينهما، كما أن الصلاة في الأرض المغصوبة تقع فرضا، وإنما الحرام شغل المكان المغصوب لا من حيث كون الفعل صلاة لأن الفرض لا يمكن اتصافه بالحرمة، وهنا كذلك فإن الحج في نفسه مأمور به، وإنما يحرم من حيث الإنفاق، وكأنه أطلق عليه الحرمة لأن للمال دخلا فيه، فإن الحج عبادة مركبة من عمل البدن والمال كما قدمناه، ولذا قال في البحر ويجتهد في تحصيل نفقة حلال، فإنه لا يقبل بالنفقة الحرام كما ورد في الحديث، مع أنه يسقط الفرض عنه معها ولا تنافي بين سقوطه، وعدم قبوله فلا يثاب لعدم القبول، ولا يعاقب عقاب تارك الحج. اهـ.