کیا فرماتے ہیں کے بارے میں کہ ایک شخص کے پاس 10 ہزار ڈالر موجود ہے پوچھنا یہ ہے کہ یہ شخص پہلے حج کرے یا نکاح ؟
واضح رہے کہ مذکورہ شخص کو اگر غالب گمان نہ ہو کہ نکاح نہ کرنے کی وجہ سے وہ گناہ میں مبتلا ہوگا تو وہ پہلے حج کر سکتا ہے ، اگر گناہ میں مبتلا ہونے کا خوف ہو تو پہلے نکاح کر لے ، اس کے بعد حج ادا کرے۔
الدرالمختار مع رد المحتار : (2/ 462، ط: دارالفكر)
وخاف العزوبة إن كان قبل خروج أهل بلده فله التزوج ولو وقته لزمه الحج ... قديم الحج على التزوج، وإن كان واجبا عند التوقان وهو صريح ما في العناية مع أنه حينئذ من الحوائج الأصلية ولذا اعترضه ابن كمال باشا في شرحه على الهداية بأنه حال التوقان مقدم على الحج اتفاقا لأن في تركه أمرين ترك الفرض والوقوع في الزنا وجواب أبي حنيفة في غير حال التوقان اهـ أي في غير حال تحققه الزنا لأنه لو تحققه فرض التزوج أما لو خافه فالتزوج واجب لا فرض فيقدم الحج الفرض عليه فافهم .
الهندية: (1/ 217، ط: دارالفكر)
إذا وجد ما يحج به وقد قصد التزوج يحج به، ولا يتزوج؛ لأن الحج فريضة أوجبها الله تعالى - على عبده كذا في التبيين.