آمدنی و مصارف

چوری کی بجلی استعمال ہونے والی جگہ کرائے پر لینا

فتوی نمبر :
2275
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

چوری کی بجلی استعمال ہونے والی جگہ کرائے پر لینا

میں کرائے پہ دفتر لینا چاہتا ہوں، اس کا کرایہ دو لاکھ روپے ہے، مالک مکان نے کہا کہ آپ دو لاکھ روپے کرایہ دے دیا کریں، بجلی کا بل جتنا بھی آئے ہم بھر لیا کریں گے، ہمیں پتہ چلا کہ مالک مکان کا بجلی والوں کے ساتھ کوئی تعلق ہے K الیکٹرک کے ساتھ، وہاں سے کوئی ترتیب بنتی ہے اور وہ فکس بل بناتے ہیں تو اس صورت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
ہمارے لیے اس دفتر کو کرائے پہ لینا درست ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چوری کی بجلی استعمال کرنے میں دوسروں کے حق پر ڈاکہ ڈالنا ہے جو کہ شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اگر مکان میں باقاعدہ میٹر موجود ہو مگر مالکِ مکان واپڈا اہلکاروں سے باہمی طے شدہ رقم (مثلاً 50 ہزار یا 1 لاکھ روپے ماہانہ) دے کر اصل میٹر بل ادا نہ کرے، حالانکہ میٹر کے مطابق اس سے زیادہ بل بنتا ہو تو یہ عمل بھی چوری، دھوکہ دہی اور خیانت کے زمرے میں آتا ہے، اس لیے شرعاً ناجائز اور حرام ہے۔
چونکہ بجلی سرکاری امانت ہے اور اس کا درست حق میٹر ریڈنگ کے مطابق پورا بل ادا کرنا ہے، لہٰذا مقررہ رقم دے کر اصل بل سے بچنا جائز نہیں، اسی بنا پر ایسی بجلی کا استعمال مالکِ مکان کے لیے بھی ناجائز ہے اور کرایہ دار یا خریدار کے لیے بھی اس بجلی سے فائدہ اٹھانا شرعاً درست نہیں، الا یہ کہ درست اور مکمل بل کی ادائیگی کی جائے، لہذا پوچھی گئی صورت میں کرائے دار کو چاہیے یا تو ایسی جگہ کو کرایہ پر نہ لے، یا اپنے استعمال کے بقدر بجلی کا بل ادا کرے۔

حوالہ جات

*سنن الترمذي:(16/3،رقم الحديث:1337،ط:دار الغرب الإسلامي)*
حدثنا أبو موسى محمد بن المثنى، قال: حدثنا أبو عامر العقدي، قال: حدثنا ابن أبي ذئب،عن خاله الحارث بن عبد الرحمن، عن أبي سلمة ،عن عبد الله بن عمرو قال: «لعن رسول الله ﷺ الراشي» والمرتشي

*السنن الكبرللبيهقي:(547/5،رقم الحديث:10826،ط:دار الكتب العلمية)*
وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ، ثنا محمد بن صالح بن هانئ، وإبراهيم بن محمد بن حاتم الزاهد، قالا: ثنا الحسن بن عبد الصمد بن عبد الله بن رزين السلمي، ثنا ⦗٥٤٨⦘ يحيى بن يحيى، أنا مسلم بن خالد الزنجي، عن مصعب بن محمد المدني، عن شرحبيل مولى الأنصار، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ أنه قال: «من اشترى سرقة وهو يعلم أنها سرقة فقد أشرك في عارها وإثمها».

*العناية شرح الهداية:(409/5،ط: دارالفكر)*
وقوله (وقد زيدت عليه أوصاف في الشريعة) هي أن يقال: السرقة أخذ مال الغير على سبيل الخفية نصابا محرزا للتمول غير متسارع إليه الفساد من غير تأويل ولا شبهة (والمعنى اللغوي) وهو أخذ الشيء من الغير على سبيل الخفية والاستسرار أمر (مراعى فيها).

*مجمع الأنهر:(456/2،ط:دار إحياء التراث العربي)*
(وحكمه) أي الغصب (الإثم إن علم) أنه مال الغير وأن ذلك الفعل غصب وأقدم عليه أما إن ظن أنه ماله فالضمان ولا إثم إذ الخطأ مرفوع.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
7
فتوی نمبر 2275کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --