آمدنی و مصارف

اسٹوڈیو کے لیے ویب سائٹ بنانا

فتوی نمبر :
2379
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

اسٹوڈیو کے لیے ویب سائٹ بنانا

السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته
محترم مفتی صاحب!
میرا تعلق ویب ڈیولپمنٹ کے شعبے سے ہے اور میں بطور ویب ڈویلپر کام کرتا ہوں۔میرا سوال یہ ہے کہ میرے پاس ایک پروجیکٹ آیا ہے جس میں ایک اسٹوڈیو کے لیے ویب سائٹ بنانی ہے۔ اس اسٹوڈیو میں مختلف قسم کے شوٹس کیے جاسکتے ہیں، مثلاً:
پوڈکاسٹ ریکارڈنگویڈیو/فوٹو شوٹس ،شادی کے بعد فوٹو سیشن وغیرہ ۔اس ویب سائٹ کا بنیادی مقصد یہ ہوگا کہ لوگ آن لائن اس اسٹوڈیو کو بک کر سکیں (یعنی سلاٹ ریزرویشن وغیرہ)۔
واضح رہے کہ اسٹوڈیو کو کن لوگوں کو اور کن مقاصد کے لیے کرائے پر دینا ہے، یہ اختیار مکمل طور پر اسٹوڈیو کے مالک (ویب سائٹ بنوانے والے/ کلائنٹ) کے پاس ہوگا اور اس میں میرا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔
میرا کردار صرف ویب سائٹ ڈیزائن اور ڈیولپمنٹ تک محدود ہوگا اور میرا براہِ راست ان شوٹس یا ان کے مواد سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
کیا ایسی ویب سائٹ بنانا شرعاً جائز ہے؟جبکہ اس میں ممکنہ طور پر جائز اور ناجائز دونوں طرح کے استعمال کا امکان موجود ہو
اور کیا اس کام کی آمدنی میرے لیے حلال ہوگی؟
برائے مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔
جزاکم اللہ خیراً

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ ایسی ویب سائٹ جو کسی ناجائز کام کے ساتھ خاص نہ ہو، بلکہ اس کا جائز استعمال بھی ممکن ہو مثلاً اس میں نعتیں، تقاریر یا دیگر جائز مواد بھی اپلوڈ کیا جا سکتا ہو اور ویب سائٹ بنانے والے کی نیت بھی ناجائز کاموں میں معاونت کی نہ ہو تو ایسی ویب سائٹ بنانا فی نفسہ جائز ہے، اگر بعد میں کوئی شخص اس ویب سائٹ کو ناجائز کاموں میں استعمال کرتا ہے تو اس کا گناہ اسی استعمال کرنے والے پر ہوگا، بنانے والے پر نہیں۔
اگر معاملہ طے کرتے وقت ہی کسٹمر نے واضح طور پر بتا دیا ہو کہ وہ اس ویب سائٹ کو ناجائز مقاصد کے لیے استعمال کرے گا تو ایسی صورت میں اس کے لیے ویب سائٹ بنانا گناہ کے کام میں مدد کے زمرے میں آئے گا، جو شرعاً ناجائز اور گناہ ہے۔

حوالہ جات

*بدائع الصنائع:(189/4،ط: دارالفكر)*
وعلى هذا يخرج الاستئجار على المعاصي أنه لا يصح لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعا كاستئجار الإنسان للعب واللهو، وكاستئجار المغنية، والنائحة للغناء، والنوح بخلاف الاستئجار لكتابة الغناء والنوح أنه جائز؛ لأن الممنوع عنه نفس الغناء، والنوح لا كتابتهما.

*فقہ البیوع: (192/1، ط: معارف القرآن)*
الاعانۃ علی المعصیۃ حرام مطلقا بنص القرآن اعنی قولہ تعالی: ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان (المائدۃ:2) وقولہ تعالی: فلن اکون ظھیرا للمجرمین (القصص:17) ولکن الاعانۃ حقیقۃ ھی ما قامت المعصیۃ بعین فعل المعین، ولا یتحقق الا بنیۃ الاعانۃ او التصریح بھا الخ.

*و فیه ایضاً: (264/2، ط: معارف القرآن)*
بیع الأشیاء إلیہ(البنک) : وفیہ تفصیل ، فإن کان المبیع ممایتمحٖض استخدامہ فی عقد محرم شرعاً، مثل برنامج الحاسوب الذی صمم للعملیات الربویۃ خاصۃ، فإن بیعہ حرام للبنک وغیرہ ، وکذلک بیع الحاسوب بقصد أن یستخدم فی ضبط العملیات المحرمۃ أوبتصریح ذلک فی العقد. أمابیع الأشیاء التی لیس لہا علاقۃ مباشرۃ بالعملیات المحرمۃ ، مثل السیارات أو المفروشات ، فلیس حراماً، وذلک لأنہا لایتمحض استخدامہا فی عمل محظور.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
3
فتوی نمبر 2379کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --