آمدنی و مصارف

افیون کے کاروبار اور کاشتکاری کا حکم

فتوی نمبر :
2380
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

افیون کے کاروبار اور کاشتکاری کا حکم

مفتی صاحب!
افیون کا کاروبار اورکاشت کاری کرنا کیسا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ افیون چونکہ بعض جائز مقاصد، خصوصا طبی علاج اور ادویات میں استعمال کی جاتی ہے، اس لیے اصولی طور پر اس کی کاشت کی اجازت دی جاتی ہے۔ اسی طرح اسے ایسے دوا ساز اداروں یا افراد کے ہاتھ فروخت کرنا بھی درست ہے جن کے بارے میں یہ معلوم نہ ہو کہ وہ اسے کس مصرف میں لائیں گے۔ تاہم اگر فروخت کرنے والے کو یقین یا غالب گمان ہو کہ خریدار اس شے کو ناجائز اور ممنوع کاموں میں استعمال کرے گا تو ایسی صورت میں اس کو فروخت کرنا شرعاً ناپسندیدہ اور مکروہ تحریمی شمار ہوگا۔
مزید یہ کہ اگر ریاست یا متعلقہ حکام کی جانب سے افیون یا بھنگ کی پیداوار پر قانونی پابندی عائد کر دی جائے تو نظمِ اجتماعی اور قانون کی پاسداری کرتے ہوئے اس کی کاشت سے اجتناب کرنا لازم ہوگا۔

حوالہ جات

*الدر مع الرد:(454/6،ط: دار الفکر)*
(وصح بيع غير الخمر) مما مر، ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون.

(قوله وصح بيع غير الخمر) أي عنده خلافا لهما في البيع والضمان، لكن الفتوى على قوله في البيع، وعلى قولهما في الضمان إن قصد المتلف الحسبة وذلك يعرف بالقرائن، وإلا فعلى قوله كما في التتارخانية وغيرها.
ثم إن البيع وإن صح لكنه يكره كما في الغاية.

*فتاوی محمودیة:(123/16،ط: فاروقیة)*
افیون کی تجارت مکروہ ہے،افیون کی آمدنی سے جو زمین خرید کر اس میں کاشت کی جاتی ہے اس کی آمدنی کو حرام نہیں کہا جائے گا۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
2
فتوی نمبر 2380کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --