السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
کیا جھینگا کھانا حلال ہے؟ برائے مہربانی تفصیلاً رہنمائی فرمائیں ؟
واضح رہے کہ مچھلی کے سوا پانی کے تمام جانور حرام ہیں ، اس لیے جھینگا کے حلال و حرام ہونے میں علما کا اختلاف ہے ،جو علما جھینگے کو مچھلی کی قسم سے شمار کرتے ہیں ان کے نزدیک جھینگا کھانا جائز ہے اور جو علما جھینگے کو مچھلی کی قسم سے شمار نہیں کرتے ان کے نزدیک جھینگا کھانا ناجائز و حرام ہےـ
اس کی تفصیل یہ ہے کہ ُُ "جھینگا" کو تقریباً تمام ماہرین لغت مچھلی کے اقسام سے مانتے ہیں اور علامہ دمیری نے بھی حیاةالحیوان میں اسے مچھلی کی اقسام سے ہی شمار کیا ہے اور اس کا مچھلی کے اقسام میں سے ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ یہ حلال ہو، لیکن اس دور کے ماہرین علم حیوانات اسے مچھلی کی اقسام سے نہیں مانتے، بلکہ وہ اس کو کیکڑے کی اقسام سے مانتے ہیں، کیونکہ مچھلی کے اندر دو خاصیتیں ضرور ہوتی ہیں : (1) گلپھڑوں سے سانس لے (2)اس میں ریڑھ کی ہڈی موجود ہو اور جھینگا میں یہ دونوں باتیں نہیں پائی جاتیں، اس لیے اس کا تقاضا یہ ہے کہ یہ ناجائز ہو، لیکن عرف عام میں لوگ چونکہ اس کو مچھلی کی قسم شمار کرتے ہیں اور شرعی معاملات میں جواز و عدم جواز میں عرف عام کا اعتبار کیا جاتاہے ، لہذا اس کا تقاضا یہ ہے کہ جھینگا حلال ہو اور اس کے حرام ہونے پر شدت اختیار نہ کی جائے، البتہ بہتر اور اولیٰ یہ ہوگا کہ جھینگا نہ کھایا جائے، تاہم جو کھا رہے ہیں، ان کو طعن و تشنیع نہ کی جائےـ
*مسند أحمد:(رقم الحدیث:5723، ط: مؤسسة الرسالة)*
عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أحلت لنا ميتتان ودمان، فأما الميتتان: فالحوت والجراد، وأما الدمان: فالكبد والطحال "
*الشامية: (6/ 306،ط:دارالفكر)*
(ولا) يحل (حيوان مائي إلا السمك) الذي مات بآفة ولو متولدا في ماء نجس ولو طافية مجروحة وهبانية (غير الطافي) على وجه الماء الذي مات حتف أنفه وهو ما بطنه من فوق، فلو ظهره من فوق فليس بطاف فيؤكل كما يؤكل ما في بطن الطافي، وما مات بحر الماء أو برده وبربطه فيه أو إلقاء شيء فموته بآفة وهبانية..
*تکملة فتح الملهم (3/427،ط:دار العلوم كراتشي)*
وأما عند الحنفية فيتوقف جوازه علي أنه سمك أو لا۔۔۔۔۔۔۔ فذکر غير واحد من أهل اللغة أنه نوع من السمك ۔۔۔۔۔۔۔ وأفتي غير واحد من الحنفية بجوازه بناءا علي ذلك۔
فلو أخذنا بقول خبراء علم الحيوان فإنه ليس سمكا، فلا يجوز علي أصل الحنفية، ولكن السؤال هنا: هل المعتبر في هذا الباب التدقيق العلمي في كونه سمكا؟ أو يعتبر العرف المتفاهم بين الناس؟ ولا شك أن عند اختلاف العرف يعتبر عرف أهل العرب، لأن استثناء السمك من ميتات البحر إنما وقع باللغة العربية۔۔۔۔۔۔فمن أخذ بحقيقة الإربيان حسب علم الحيوان قال بمنع أكله عند الحنفية، ومن أخذ بعرف أهل العرب قال بجوازه، وربما يرجح هذاالقول بأن المعهود من الشريعة في أمثال هذه المسائل الرجوع إلی العرف المتفاهم بين الناس، دون التدقيق في الأبحاث النظرية، فلا ينبغي التشديد في مسألة الإربيان عند الإفتاء، ولا سيما في حالة كون المسألة مجتهدا فيها من أصلها، ولا شك أنه حلال عند الأئمة الثلاثة، وإن اختلاف الفقهاء يورث التخفيف كما تقرر في محله، غير أن الاجتناب عن أكله أحوط وأولي وأحري.