کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء

پڑوسی سے برتن کے اعتبار سے آٹا وغیرہ قرض لینا

فتوی نمبر :
537
حظر و اباحت / حلال و حرام / کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء

پڑوسی سے برتن کے اعتبار سے آٹا وغیرہ قرض لینا

محترم مفتی صاحب ہمارے ہاں یہ رواج ہے کہ جب گھرمیں آتا وغیرہ ختم ہوجائے اور دوکان سے لانا مشکل یا ناممکن ہو تو ہم ایک برتن میں پڑوسی سے لے لیتے ہیں پھر جب ہم خریدتے ہیں تو اسی برتن کو ان کو واپس کرتے ہیں جب کہ کمی بیشی کا احتمال رہتا ہے اس کا کیا حکم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ پڑوسیوں کے درمیان رائج معاملات قرض کے قبیل سے ہیں نہ کہ بیع(خرید وفروخت ) کے قبیل سے ۔
لہذا یہ لین دین نہ صرف جائز بلکہ شریعت میں یہ ایک مستحسن امر ہے ۔اس لیے پوچھی گئی صورت میں یہ معاملات چاہے ناپنے کے اعتبارسے ہو جیسا کہ برتن کے حساب سے کیا جاتا ہے یا وزن کے حساب سے بالکل درست ہے اور اگر کوئی اپنی خوشی سے زیادہ دے دے یا دینے والا کم لے یا بالکل لینے سے انکار کرے تب بھی جائز ہے ۔

حوالہ جات

الهندية:(3/ 201، ط:دارالفكر)
ويجوز القرض فيما هو من ‌ذوات ‌الأمثال كالمكيل والموزون والعددي المتقارب كالبيض ولا يجوز فيما ليس من ‌ذوات ‌الأمثال كالحيوان والثياب والعدديات المتفاوتة.

التاتارخانية :
كل شيء يكال او يوزن نحو الحنطة ..... الخ

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
108
فتوی نمبر 537کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --