زکوۃ و نصاب زکوۃ

نفع کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
654
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

نفع کی نیت سے خریدے گئے پلاٹ پر زکوۃ کا حکم

میرے شوہر کا انتقال ہوگیا ہے میرے پانچ بیٹے ہیں جو ابھی پڑھ رہے ہیں ایک بیٹا کماتاہے ، میرے شوہر کا پروپرٹی کا کام تھا انہوں نے ایک جگہ کچھ پلاٹ لیے تھے کہ بعد میں سیل کردیں گے لیکن ان کے نام کوئی پروپرٹی نہیں ہے ، کیاان پر زکوۃ ہوگی ؟آج کل حالات اچھے نہیں ہیں اس لیے پروپرٹی سیل نہیں ہورہی ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر پلاٹ خریدتے وقت یہ نیت تھی کہ اگر نفع ہو تو بیچ دیں گے تو ایسی صورت میں اس پلاٹ پر زکوۃ واجب نہیں ۔ البتہ اگر خالص تجارت کی نیت سے ہی خریدا ہو، اور اس پر ایک سال گزر گیا ہو ، تو ایسے پلاٹ کی موجودہ قیمت پر ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوۃ واجب ہوگی ۔

حوالہ جات

الدرالمختار : (2/ 264، ط: دارالفكر)
(ولا في ثياب البدن) المحتاج إليها لدفع الحر والبرد ابن ملك (وأثاث المنزل ودور السكنى ونحوها) وكذا الكتب وإن لم تكن لأهلها إذا لم تنو للتجارة .

فتح القدير: (2/ 162، ط:دارالفكر)
وليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة) لأنها مشغولة بالحاجة الأصلية .

الفقه الإسلامي وأدلته : (3/ 1795، ط : دارالفكر)
ولازكاة باتفاق المذاهب على الحوائج الأصلية ‌من ‌ثياب ‌البدن والأمتعة ودور السكنى (العقارات) وأثاث المنزل، ودواب الركوب، وسلاح الاستعمال، والكتب العلمية وإن لم تكن لأهلها إذا لم ينو بها التجارة .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
62
فتوی نمبر 654کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --