آمدنی و مصارف

عورت کے بالوں کو بیچنے کا حکم

فتوی نمبر :
796
حظر و اباحت / حلال و حرام / آمدنی و مصارف

عورت کے بالوں کو بیچنے کا حکم

السلام علیکم !
حضرت یہ بتائیں ہماری گلی میں بال خریدنے والے آتے ہیں تو وہ کنگی کے بال خریدتے ہیں تو کیا عورتیں اپنے بال بیچ سکتی ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ انسان کے کسی بھی جزو کو بیچنا یا خریدنا شرعاً ناجائز ہے، کیونکہ یہ انسانی حرمت کے خلاف ہے،لہذا عورت کے بالوں کی خرید وفروخت شرعاً حرام ہے۔

حوالہ جات

الشامية:(58/5،ط: دارالفكر)
(كما بطل) (بيع صبي لا يعقل ومجنون) شيئا
وبول (ورجيع آدمي لم يغلب عليه التراب) فلو مغلوبا به جاز كسرقين وبعر، واكتفى في البحر بمجرد خلطه بتراب (وشعر الإنسان) لكرامة الآدمي ولو كافرا ذكره المصنف وغيره في بحث شعر الخنزير.قوله: وشعر الإنسان) ولا يجوز الانتفاع به لحديث «لعن الله الواصلة والمستوصلة» وإنما يرخص فيما يتخذ من الوبر فيزيد في قرون النساء وذوائبهن هداية.

العناية شرح الهداية:(425/6،ط: دارالكتاب الإسلامي)
(ولا يجوز بيع شعور الإنسان ولا الانتفاع بها) لأن الآدمي مكرم لا مبتذل فلا يجوز.

مجمع الانهر:(59/2،ط: دارإحياءالتراث العربي)
(ولا) يجوز (بيع شعر الآدمي ولا الانتفاع به ولا بشيء من أجزائه) لأن الآدمي مكرم غير مبتذل فلا يجوز أن يكون شيء من أجزائه مهانا مبتذلا.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
84
فتوی نمبر 796کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --