السلام علیکم مسٔلہ یہ دریافت کرنا ہے کہ ایک شخص کے پاس پانچ تولہ سونا ہے جو کہ بیوی کا ہے، وہ اس کی ملکیت کے اعتبار سے قربانی بھی کرتا ہے، اب وہ کہتا ہے کہ آیا میں اس کی زکوۃ اور فطرانہ بھی ادا کروں گا یا نہیں ؟ حال یہ ہے کہ وہ تین لاکھ کا مقروض بھی ہے تو اس صورت میں.. زکوۃ.. فطرانہ...اور قربانی کا حکم کیا ہوگا؟ جزاک اللہ
واضح رہے کہ کسی عورت کو مہر میں یا جہیز میں دیا گیا سونا اسی کی ملکیت ہوتا ہے، جس کی زکوٰۃ خود اسی عورت پر لازم ہوتی ہے، شوہر پر نہیں، البتہ اگر شوہر کی استطاعت ہو اور بیوی کی اجازت سے وہ اس کے سونے کی زکوٰۃ اور فطرہ ادا کردے اور اس کی طرف سے قربانی کرے تو یہ جائز بلکہ باعثِ ثواب ہوگا۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر شوہر بیوی کی رضامندی سے زکوٰۃ اور فطرہ ادا کرتا ہے تو ادا کرنا جائز ہے، البتہ شوہر پر بیوی کے مال کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم نہیں ۔
*الدرالمختار:(259/2،ط: دارالفكر)* (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك، خرج مال المكاتب. *الشامية:(259/2،ط: دارالفكر)* (قوله ملك نصاب) فلا زكاة في سوائم الوقف والخيل المسبلة لعدم الملك، ولا فيما أحرزه العدو بدارهم لأنهم ملكوه بالإحراز عندنا خلافا للشافعي بدائع، ولا فيما دون النصاب. مطلب الفرق بين السبب والشرط والعلة. *بدائع الصنائع:(53/2،ط:دار الكتب العلمية)* وهو أن الزكاة عبادة عندنا والعبادة لا تتأدى إلا باختيار من عليه إما بمباشرته بنفسه أو بأمره أو إنابته غيره فيقوم النائب مقامه فيصير مؤديا بيد النائب.