احکام عدت

عدت طلاق کے دوران زنا کرنے سے عدت پر اثر

فتوی نمبر :
1374
معاملات / عدت نان و نفقہ / احکام عدت

عدت طلاق کے دوران زنا کرنے سے عدت پر اثر

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک عورت کواس کے شوہر نے طلاق دے دی اس کے بعد وہ عورت شوہر کے گھر عدت گزار رہی ہے ، اس نیت سے کہ عدت کے بعد حلالہ کرکے شوہر سے دوبارہ نکاح کرے گی ، اس دوران عورت زنا کر بیٹھتی ہے
اب پوچھنا یہ ہے کہ عورت کے عدت پر زنا کی وجہ سے کوئی اثر پڑے یا نہیں ؟اگر کوئی اثر پڑتا ہے تو اس کی تفصیل بتائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زنا اگر چہ ایک حرام اور ناجائز فعل ہے لیکن اس سے عورت کی عدت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔

حوالہ جات

الشامىة : (3/ 518، ط: دارالفكر)
ومفاده أنه لو وطئها بعد الثلاث في العدة بلا نكاح عالما بحرمتها لا تجب عدة أخرى ‌لأنه ‌زنا.

الهندية: (1/ 475، ط: دارالفكر)
قيل له فإن كانا ‌عالمين ‌بالحرمة مقرين بوقوع الحرمة الغليظة ولكن يطؤها فحاضت ثلاث حيض ثم أرادت أن تتزوج بزوج آخر قال: يجوز نكاحها لأنهما إذا كان مقرين بالحرمة كان الوطء زنا والزنا لا يوجب العدة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
103
فتوی نمبر 1374کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --