کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک لڑکی نے اپنے شوہر سے خلع لی اور عدت گزارنے سے پہلے ایک مہینے کے اندر اندر وہ کسی اور مرد سے نکاح کرتی ہے شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟ اور ان کے نکاح کی اس محفل میں شریک ہونا کیسا ہے؟
واضح رہے کہ دوران عدت دوسرا نکاح کرنا شریعت میں جائز نہیں ، لہذا پوچھی گئی صورت میں عدت کے دوران کیا گیا نکاح کرنا منعقد ہی نہیں ہوتا ،اور ایسے محفل میں شرکت کرنے سےبھی اجتناب کر نا چاہیے۔
القرأن الكريم : [المائدة:/5 2]
وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ
الهندية: (1/ 280، ط: دارالفكر)
لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة، كذا في السراج الوهاج. سواء كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو دخول في نكاح فاسد أو شبهة نكاح، كذا في البدائع.
بريقة محمودية في شرح طريقة محمدية : (4/ 61، ط: مطبعة الحلبي)
بخلاف الفاسد هو كالنكاح في نكاح الغير أو عدته أو نكاح الأخت في عدة الأخت في الطلاق البائن أو نكاح الخامسة في عدة الرابعة أو نكاح الأمة على الحرة أو بلا شهود .