احکام عدت

طلاق رجعی اور متوفیٰ عنھا زوجھا کی عدت

فتوی نمبر :
612
معاملات / عدت نان و نفقہ / احکام عدت

طلاق رجعی اور متوفیٰ عنھا زوجھا کی عدت

شوہر نے اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی دی اور عورت عدت گزارنے لگی کہ اس دوران شوہر کا انتقال ہوگیا اب اس عورت پر کونسی عدت واجب ہے طلاق کی یا وفات کی ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں اس عورت پرعدت وفات لازم ہے جو کہ چار ماہ اور دس دن ہیں ۔

حوالہ جات

القرأن الكريم: [البقرة: 234]
﴿وَٱلَّذِينَ يُتَوَفَّوۡنَ مِنكُمۡ وَيَذَرُونَ أَزۡوَٰجٗا يَتَرَبَّصۡنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرۡبَعَةَ أَشۡهُرٖ وَعَشۡرٗاۖ ﴾

الهندية: (1/ 531، ط :دارالفكر)
رجل طلق امرأته طلاقا رجعيا فاعتدت ‌بثلاث ‌حيض ‌إلا ‌يوما فمات الزوج يلزمها أربعة أشهر وعشر كذا في غاية البيان.

الخانية:349\1 ، ط:دارالفکر)

والحرۃ المطلقۃ اذا مات زوجھا فی العدۃ ان کان الطلاق رجعیا ینقلب عدتھا عدۃ الوفاۃ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
109
فتوی نمبر 612کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --