احکام عدت

حاملہ عورت کی عدت

فتوی نمبر :
274
معاملات / عدت نان و نفقہ / احکام عدت

حاملہ عورت کی عدت

مفتی صاحب ایک عورت دو ماہ کی حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے یا کچھ اور؟




اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جب کسی حاملہ عورت کے شوہر کا انتقال ہو جائے یا اسے شوہر طلاق دے دے تو اس کی عدت وضع حمل ہوتی ہے، چاہے پیدائش فوراً ہو یا کئی ماہ بعد ۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں عورت کی عدت وضع حمل ہوگی۔

حوالہ جات


*القرآن الکریم:(سورة الطلاق: 4:56)*
وَأُو۟لَاتُ ٱلۡأَحۡمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعۡنَ حَمۡلَهُنَّۗ وَمَن يَتَّقِ ٱللَّهَ يَجۡعَل لَّهُۥ مِنۡ أَمۡرِهِۦ يُسۡرٗا.

*الشامية:(511/3،ط: دارالفکر)*
(و) في حق (الحامل) مطلقا ولو أمة، أو كتابية، أو من زنا بأن تزوج حبلى من زنا ودخل بها ثم مات، أو طلقها تعتد بالوضع جواهر الفتاوى (وضع) جميع (حملها) .

*الهندية:(528/1،ط: دارالفكر)*
وعدة الحامل أن تضع حملها كذا في الكافي. سواء كانت حاملا وقت وجوب العدة أو حبلت بعد الوجوب كذا في فتاوى قاضي خان. وسواء كانت المرأة حرة أو مملوكة قنة أو مدبرة أو مكاتبة أو أم ولد أو مستسعاة مسلمة أو كتابية كذا في البدائع.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
138
فتوی نمبر 274کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --