السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
کیا حالت احرام میں انڈر ویئر پہن سکتے ہیں؟اس سے کوئی دم تو لازم نہیں آتا ؟
احرام کی حالت میں مرد کے لیے سلے ہوئے کپڑے پہننا ممنوع ہے، اسی لیے انڈر ویئر، بنیان اور اس جیسے دیگر لباس استعمال کرنے کی اجازت نہیں، البتہ اگر کسی کو بواسیر، ہرنیہ یا کسی اور مجبوری کی وجہ سے ستر کی حفاظت یا تکلیف سے بچاؤ کی ضرورت ہو تو بہتر ہے کہ بغیر سلی ہوئی لنگوٹ استعمال کرے، لیکن اگر واقعی مجبوری ایسی ہو کہ انڈر ویئر پہننا ناگزیر ہو جائے تو گنجائش موجود ہے، تاہم اس کے بدلے میں شرعی حکم کے مطابق فدیہ ادا کرنا لازم ہوگا اور اگر ایک دن یا ایک رات (یا اس سے زیادہ) مسلسل انڈر ویئر پہنا جائے تو ایک دم دینا واجب ہے۔
*المحيط البرهاني:(446/2،ط:دار الكتب العلمية)*
والأصل أن المحرم ممنوع عن لبس المخيط على وجه المعتاد حتى لو اتزر بالسراويل وارتدى بالقميص إذا فسخ به فلا بأس به؛ لأن المنع عن لبس المخيط في حق المحرم لما فيه من معنى الترفيه، وذلك في اللبس المعتاد لا في غيره؛ لأن غير المعتاد يحتاج إلى تكلف حفظه عند استعماله كما يحتاج إلى تكلف حفظ الأزرار.
*الهندية:(242/1،ط:دار الفكر)*
إذا لبس المحرم المخيط على الوجه المعتاد يوما إلى الليل فعليه دم، وإن كان أقل من ذلك فصدقة كذا في المحيط سواء لبسه ناسيا أو عامدا عالما أو جاهلا مختارا أو مكرها هكذا في البحر الرائق.