السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
میں مکہ سے باہر ایسی جگہ کام کرتا ہوں جو میقات کے اندر ہے، کیا میرے لیے حرم میں نماز کے لیے جانے کی صورت میں احرام باندھنا لازم ہوگا؟
جو شخص میقات کے اندر کا رہائشی ہو یا ملازمت کے سلسلے میں وہاں مقیم ہو اور وہ محض نماز، ملاقات یا کسی دوسرے کام کے لیے مکہ مکرمہ جانا چاہے تو اس کے لیے احرام باندھنا ضروری نہیں۔
*الهندية:(221/1،ط: دارالفكر)*
ومن كان داخل الميقات كالبستاني له أن يدخل مكة لحاجة بلا إحرام إلا إذا أراد النسك فالنسك لا يتأدى إلا بالإحرام، ولا حرج فيه كذا في الكافي، وكذلك المكي إذا خرج إلى الحل للاحتطاب أو الاحتشاش ثم دخل مكة يباح له الدخول بغير إحرام، وكذلك الآفاقي إذا صار من أهل البستان كذا في محيط السرخسي.
*البحر الرائق:(342/2،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
ومن كان داخل الميقات فله أن يدخل مكة بغير إحرام إذا لم يقصد الحج أو العمرة وهي الحيلة لمن أراد أن يدخل مكة بغير إحرام.