مفتی صاحب !
کیا محرم (احرام باندھنے والا)ایک دوسرے کے بال کاٹ سکتے ہیں خاص طور پر حج کے افعال مکمل کرنے کے بعد اس کا کیا حکم ہے ؟
واضح رہے کہ حج کے افعال مکمل ہونے کے بعد محرمین ایک دوسرے کے بال خود بھی کاٹ سکتے ہیں اور کسی دوسرے سے بھی کٹواسکتے ہیں، لیکن اگر حج کے افعال مکمل ہونے سے پہلے کوئی شخص حالت احرام میں کسی اور کے بال کاٹ دے تو اس پر صدقہ کرنا لازم ہے اور جس کے بال کاٹے ہیں اگر وہ بھی حالت احرام میں ہے تو اس پر دم لازم ہے، صدقہ سے مراد صدقہ فطر یعنی پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت کے برابر صدقہ کرنا واجب ہوگا۔
*مجمع الأنهر: (1/ 293،ط:دار إحياء التراث العربي)*
(وكذا) يلزمه الصدقة (لو حلق أقل من ربع رأسه أو) أقل من ربع (لحيته أو حلق بعض) رقبته أو بعض (عانته أو) حلق (أحد إبطيه أو) حلق (رأس غيره) بأمره أو بغير أمره فعلى الحالق صدقة وعلى المحلوق دم..
*لباب المناسك:(154،ط:دار قرطبه)*
وإذا حلق رأسه أو رأسَ غيره عند جواز التَّحلل لم يَلْزَمُه شيءٌ.