مفتی صاحب ! ہم حج و عمرہ کرنے جاتے ہیں تو مسجد حرام مکہ و مسجد نبوی مدینہ میں قصر نمازیں پڑھیں گے یا پوری.؟
واضح رہے کہ کسی شہر میں اگر مسلسل 15 دن یا اس سے زیادہ قیام کا ارادہ ہو تو نماز میں اتمام (پوری نماز پڑھنا) کرنا ہوگا اور اگر 15 دن سے کم قیام کا ارادہ ہو تو قصر کرنا لازم ہوگا، لہذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ مکہ اور مدینہ دونوں الگ الگ شہر ہیں، اس لیے اگر ہر ایک شہر میں مسلسل 15دن یا اس سے زیادہ قیام کا ارادہ ہو تو اتمام کرنا لازم ہے اور اگر 15 دن سے کم قیام کا ارادہ ہو تو قصر لازم ہوگا ..
*الهندية:(139/1،ط:دارالفكر)* ونية الإقامة إنما تؤثر بخمس شرائط: ترك السير حتى لو نوى الإقامة وهو يسير لم يصح، وصلاحية الموضع حتى لو نوى الإقامة في بر أو بحر أو جزيرة لم يصح، واتحاد الموضع والمدة، والاستقلال بالرأي، هكذا في معراج الدراية.....وإن نوى الإقامة أقل من خمسة عشر يوما قصر، هكذا في الهداية. *بدائع الصنائع:(98/1،ط:دار الکتب العلمية)* وذكر في كتاب المناسك أن الحاج إذا دخل مكة في أيام العشر ونوى الإقامة خمسة عشر يوما أو دخل قبل أيام العشر لكن بقي إلى يوم التروية أقل من خمسة عشر يوما ونوى الإقامة لا يصح؛ لأنه لا بد له من الخروج إلى عرفات فلا تتحقق نية إقامته خمسة عشر يوما فلا يصح.