السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب !
اگر کوئی شخص عرفہ والے دن غروب آفتاب سے پندرہ بیس منٹ پہلے میدان عرفات پہنچے تو کیا اس کا حج ادا ہو جائے گا، کوئی دم دینا تو لازم نہیں؟
واضح رہے کہ عرفات کا وقوف، حج کا اہم ترین رکن ہے، 9 ذوالحجہ کے دن زوال کے بعد سے غروب آفتاب تک یہاں ٹھہرنا لازم ہے، لہذا اگر کوئی شخص غروب آفتاب سے تھوڑی دیر پہلے آئے اور کچھ قیام کرنے کے بعد غروب آفتاب ہوتے ہی میدان عرفات سے نکل جائے تو بھی اس کا وقوف عرفہ ادا ہو جائے گا، کوئی دم وغیرہ لازم نہیں ،تاہم ایسا کرنا بہتر نہیں۔
*بدائع الصنائع:(127/2،ط: دار الكتب العلمية)*
وأما القدر الواجب من الوقوف: فمن حين تزول الشمس إلى أن تغرب فهذا القدر من الوقوف واجب عندنا.فأما الوقوف إلى جزء من الليل: فلم يقم عليه دليل قاطع بل مع شبهة العدم أعني: خبر الواحد، وهو ما روي عن النبي - ﷺ - أنه قال: «من أدرك عرفة بليل فقد أدرك الحج» .
*المبسوط للسرخسي:(55/4،ط:دار المعرفة)*
ومن وقف بعد زوال الشمس أو ليلة النحر قبل انشقاق الفجر أو مر بها مجتازا، وهو يعرفها أو لا يعرفها أجزأه فالحاصل أن ابتداء وقت الوقوف بعد زوال عندنا.