احکام حج

طوافِ زیارت کا وقت

فتوی نمبر :
2465
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

طوافِ زیارت کا وقت

مفتی صاحب !
طواف زیارت کا وقت کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طوافِ زیارت حج کا نہایت ہی اہم رکن ہے، جس کا وقت 10 ذی الحجہ کی صبح صادق سے شروع ہوتا ہے، اس سے پہلے اس کا ادا کرنا جائز نہیں، اس طواف کو 12 ذی الحجہ کے غروبِ آفتاب سے پہلے ادا کر لینا واجب ہے۔
اگر کوئی شخص مقررہ وقت کے اندر طوافِ زیارت ادا نہ کرسکے اور بارہویں تاریخ کا سورج غروب ہوجائے تو اس پر لازم ہے کہ بعد میں طوافِ زیارت کرے اور تاخیر کی وجہ سے ایک دم (قربانی) بھی واجب ہوگا۔

حوالہ جات

*شرح مختصر الكرخي:(508/2،ط:دار أسفار)*
أن أول وقت طواف الزيارة: طلوع الفجر من يوم النحر. وقال الشافعي: إذا انتصف الليل من ليلة النحر.
لنا: أنه وقت للوقف بعرفة، فلا يكون وقتا للطواف كالنصف الأول؛ ولأنه وقت لركن في الحج، فلا يكون وقتا لركن آخر غير تابع له كيوم النحر.
وأما آخر وقت الطواف: فآخر أيام التشريق، فإن أخره عنها فعليه دم عند أبي حنيفة، وقال أبو يوسف ومحمد: لا شيء عليه، وبه قال الشافعي.

*فتح باب العناية بشرح النقاية:(665/1،ط:دار الأرقم بن أبي الأرقم)*
(وأول وقته) أي وقت طواف الزيارة (بعد فجر يوم النحر) لأن ما قبله من الليل وقت الوقوف بعرفة، والطواف مرتب عليه (وهو) أي طواف الزيارة (فيه) أي في أول أيام النحر (أفضل) لما في مسلم عن ابن عمر: أنه ﷺ أفاض يوم النحر ثم رجع فصلى الظهر بمنى. قال نافع: وكان ابن عمر (يفعل ذلك) .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
1
فتوی نمبر 2465کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --