السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! میرا شوہر نہیں ہے، جبکہ میرا بیٹا 10 سال کا ہے کیا میں اس کے ساتھ حج پر جا سکتی ہوں ؟
واضح رہے کہ اگر بچہ بالغ ہو چکا ہو یا بلوغت کے قریب ہو اور اس میں سمجھ بوجھ اور آثارِ بلوغت پائے جاتے ہوں تو وہ عورت کے لیے محرم شمار ہوگا اور اس کے ساتھ سفر کرنا جائز ہے، البتہ اگر بچہ ابھی قریب البلوغ نہ ہو تو وہ شرعی محرم نہیں بنے گا، اس لیے اس کے ساتھ شرعی مسافت کا سفر کرنا جائز نہیں، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر آپ کا بیٹا بلوغت کے قریب اور سمجھ بوجھ کی صلاحیت رکھتا ہے تو آپ اس کے ساتھ حج پر جا سکتی ہیں، ورنہ نہیں۔
*الصحيح البخاري:(4/ 59،رقم الحدیث:3006،ط:دارطوق النجاۃ)* حدثنا قتيبة بن سعيد: حدثنا سفيان عن عمرو عن أبي معبد عن ابن عباس رضي الله عنهما: أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: «لا يخلون رجل بامرأة ولا تسافرن امرأة إلا ومعها محرم فقام رجل فقال: يا رسول الله اكتتبت في غزوة كذا وكذا وخرجت امرأتي حاجة قال: اذهب فحج مع امرأتك. *صحيح مسلم:(4/ 102،رقم الحدیث: 414 - (1338)،ط:دارطوق النجاۃ)* وحدثنا محمد بن رافع ، حدثنا ابن أبي فديك ، أخبرنا الضحاك ، عن نافع ، عن عبد الله بن عمر ، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، تسافر مسيرة ثلاث ليال إلا ومعها ذو محرم . *البحر الرائق:(61/4،ط:دار الكتاب الإسلامي)* وأراد بالمراهق الذي مثله يجامع، وتتحرك آلته، ويشتهي الجماع، وقدره شمس الإسلام بعشر سنين، واحترز به عن الصغير الذي لا يجامع مثله فلا يحلها، وأطلق الوطء فشمل ما إذا وطئها في حيض أو نفاس أو إحرام.