زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکاۃ کا مال چوری ہو جائے تو زکاۃ کا حکم

فتوی نمبر :
264
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

زکاۃ کا مال چوری ہو جائے تو زکاۃ کا حکم

السلام علیکم مفتی صاحب ایک شخص نے زکوۃ کی رقم علیحدہ کی تاکہ کسی مستحق کو دے دیں راستے میں ڈکیٹ نے لوٹ لیا تو کیا اور شخص کی زکوۃ ادا ہو گئی یا دوبارہ سے ادا کرنی ہوگی برائے مہربانی وضاحت فرما دیں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ زکوٰۃ کی رقم صرف مال سے الگ کردینے سے ادا نہیں ہوتی، بلکہ اس کی ادائیگی کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ کسی مستحق کو پہنچا دی جائے۔
اگر وہ رقم مستحق تک پہنچنے سے پہلے چوری ہوگئی یا ضائع ہوگئی تو زکوٰۃ ادا نہ ہوگی اور ایسی صورت میں دوبارہ زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں چونکہ رقم مستحق تک نہیں پہنچی، آپ کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوئی، اس لیے دوبارہ زکوٰۃ دینا واجب ہے۔

حوالہ جات

الشامية:(270/2،ط: دارالفكر)
قوله بعزل ما وجب) في نسخة لعزل باللام، وهي أحسن ليوافق المعطوف عليه (قوله: ولا يخرج عن العهدة بالعزل) فلو ضاعت لا تسقط عنه الزكاة ولو مات كانت ميراثا عنه.

البحر الرائق:(227/2،ط: دارالكتاب الإسلامي)
وأشار المصنف إلى أنه لا يخرج بعزل ما وجب عن العهدة بل لا بد من الأداء إلى الفقير لما في الخانية لو أفرز من النصاب خمسة ثم ضاعت لا تسقط عنه الزكاة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
165
فتوی نمبر 264کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --