السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب! میری گندم پیسنے کی چکیاں ہیں، کیا ان پر زکوۃ واجب ہوگی؟
واضح رہے کہ سامانِ تجارت پر زکوٰۃ فرض ہے، سامانِ تجارت سے مراد وہ چیز ہے جو خریدتے وقت بیچنے کی حتمی نیت سے لی جائے اور اب بھی بیچنے کا ارادہ باقی ہو،مثلاً مکان، پلاٹ یا مشینری اگر بیچنے کے لیے خریدی گئی ہو تو ان پر زکوٰۃ لازم ہے، لیکن اگر کوئی چیز ذاتی استعمال کے لیے ہو، یا بیچنے کی نیت ترک کر دی جائے، یا مکان صرف کرایہ پر دینے کے لیے خریدا گیا ہو تو ان پر زکوٰۃ نہیں، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں گندم پیسنے والی چکیوں پر زکوٰۃ نہیں ہے، بلکہ ان سے حاصل ہونے والی آمدنی پر( اگر نصاب کے برابر ہو) زکوۃ واجب ہوگی۔
*الدر المختار:(126/1،ط: دارالفكر)* (ولا في ثياب البدن) المحتاج إليها لدفع الحر والبرد، ابن ملك (وأثاث المنزل ودور السكنى ونحوها) وكذا الكتب وإن لم تكن لاهلها إذا لم تنو للتجارة، غير أن الاهل له أخذ الزكاة وإن ساوت نصبا. *الھندیة:(172/1،ط: دار الفكر )* (ومنها فراغ المال) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة. *وأيضاً:(180/1،ط: دارالفكر)* ولو اشترى قدورا من صفر يمسكها ويؤاجرها لا تجب فيها الزكاة كما لا تجب في بيوت الغلة.