کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کی وضاحت میںکہ حج کیلئے کیسے حساب لگایا جائے گا؟ایک دوکاندار ہے، اس کی دوکان میں 30 لاکھ مالیت کا سرمایہ ہے اور اسی سے اس کے گھر کا گزر بسر چل رہا ہے، اس کے علاوہ اور کوئی پلاٹ وغیرہ یا کوئی انویسٹمنٹ نہیں ہے اور نہ ہی موجودہ وقت میں حج کیلئے جو قیمت چاہیے ساڑھے 12 لاکھ اتنی نقدی ہے ۔ اسی طرح دوسرا دوکاندار ہے، اس کے پاس 50 لاکھ مالیت کا سرمایہ ہے ، اس کا بھی گزر بسر اسی دوکان سے چل رہا ہے اور مزید کوئی نہ انویسٹمنٹ ہے اور نہ ہی حج کی موجودہ رقم جتنی نقدی ہے، لیکن یہ ہے کہ جو کچھ بچت ہوتی ہے، اسے مزید اپنی دوکان میں انویسٹ کر کے دوکان میں مال کو بڑھا رہا ہے ۔ اب آیا ان میں سے کسی پر حج فرض ہو گا یا نہیں؟
واضح رہے کہ حج فرض ہونے کے لیے ضروری ہے کہ کسی شخص کے پاس اپنی حاجاتِ اصلیہ، قرض اور اہل و عیال کے ضروری اخراجات سے زائد اتنا مال موجود ہو کہ وہ حج کے اخراجات برداشت کرسکے۔ فقہائے کرام نے تجارت کے اس بنیادی سرمائے کو بھی حاجاتِ اصلیہ میں شمار کیا ہے جس پر کسی شخص کے کاروبار اور اس کے اہل و عیال کے ضروری اخراجات کا انحصار ہو، چنانچہ اگر حج کے اخراجات ادا کرنے سے اس کے کاروبار اور گزر بسر میں حرج و دشواری پیدا ہوتی ہو تو اس پر حج فرض نہیں ہوگا، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں پہلے دکاندار کے پاس تیس لاکھ روپے مالیت کا مالِ تجارت ہے اور اس کے علاوہ کوئی دوسری جائیداد یا سرمایہ نہیں ہے، نیز اسی کاروبار سے اس کے اور اس کے اہل و عیال کے اخراجات پورے ہوتے ہیں، اگر حج کے اخراجات ادا کرنے سے اس کے کاروبار اور گزر بسر میں دشواری پیدا ہوتی ہے تو اس پر حج فرض نہیں ہوگا اور اگر اس کا کاروبار اور گزر بسر متاثر نہیں ہوتا تو حج فرض ہوگا، البتہ دوسرے دکاندار کے پاس پچاس لاکھ روپے مالیت کا مالِ تجارت ہے اور وہ اپنی بچت کو مزید مال خریدنے کے لیے کاروبار میں لگاتا رہتا ہے، لہذا اگر اس کے لیے ممکن ہو کہ حج کے اخراجات ادا کرنے کے بعد بھی اس کا کاروبار مناسب طریقے سے چلتا رہے اور اس کے اہل و عیال کے ضروری اخراجات متاثر نہ ہوں تو اس پر حج فرض ہوگا، اگرچہ وہ اپنی بچت کو مزید مالِ تجارت خریدنے میں لگاتا رہتا ہو، کیونکہ محض کاروبار کو وسعت دینے کی غرض سے بچت کو دوبارہ کاروبار میں لگاتے رہنا حج کی فرضیت سے مانع نہیں ہے۔
الهندية: (1/ 217،ط:دارالفکر) وتفسير ملك الزاد والراحلة أن يكون له مال فاضل عن حاجته، وهو ما سوى مسكنه ولبسه وخدمه، وأثاث بيته قدر ما يبلغه إلى مكة ذاهبا وجائيا راكبا لا ماشيا وسوى ما يقضي به ديونه ويمسك لنفقة عياله، ومرمة مسكنه ونحوه إلى وقت انصرافه كذا في محيط السرخسي ويعتبر في نفقته ونفقة عياله الوسط من غير تبذير،۔۔۔۔«قال بعض العلماء: إن كان الرجل تاجرا يعيش بالتجارة فملك مالا مقدار ما لو رفع منه الزاد والراحلة لذهابه، وإيابه ونفقة أولاده وعياله من وقت خروجه إلى وقت رجوعه ويبقى له بعد رجوعه رأس مال التجارة التي كان يتجر بها كان عليه الحج، وإلا فلا، البحر الرائق: (2/ 337،ط:دار الكتاب الإسلامي) وأشار بقوله وما لا بد منه إلى أنه لا بد أن يفضل له مال بقدر رأس مال التجارة بعد الحج إن كان تاجرا وكذا الدهقان والمزارع أما المحترف فلا كذا في الخلاصة ورأس المال يختلف باختلاف الناس والمراد بالعيال من تلزمه نفقته.