زکوۃ و نصاب زکوۃ

پھیری کی نیت سے خریدے گئے رکشوں پر زکوٰۃ

فتوی نمبر :
940
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

پھیری کی نیت سے خریدے گئے رکشوں پر زکوٰۃ

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
ایک آدمی نے اپنی دکان پہ کام کرنے والے ساتھیوں کو رکشے لے کر دیے ہوئے ہیں وہ رکشوں پر پھیری کر کے لاتے ہیں اور اس کو دیتے ہیں یہ رکشے اس دکاندار کی ملکیت ہے لیکن استعمال کے لیے اس نے کاریگروں کو دیا ہوا ہے تو ایا زکوۃ کے حساب کے اندر ان رکشوں کا بھی حساب لگایا جائے گا یا نہیں یعنی اسے مال تجارت میں شمار کیا جائے گا یا ضرورت کی چیز میں شمار کیا جائے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ سامانِ تجارت پر زکوٰۃ فرض ہے۔ سامانِ تجارت سے مراد وہ چیز ہے جو خریدتے وقت بیچنے کی حتمی نیت سے لی جائے اور اب بھی بیچنے کا ارادہ باقی ہو،مثلاً مکان، پلاٹ یا مشینری اگر بیچنے کے لیے خریدی گئی ہو تو ان پر زکوٰۃ لازم ہے، لیکن اگر کوئی چیز ذاتی استعمال کے لیے ہو، یا بیچنے کی نیت ترک کر دی جائے، یا مکان صرف کرایہ پر دینے کے لیے خریدا گیا ہو تو ان پر زکوٰۃ نہیں ،لہذا پوچھی گئی صورت میں رکشے جو پھیری کے لیے خریدے گئے ہیں ان کی مالیت پر زکوۃ فرض نہیں،البتہ ان سے حاصل ہونے والی آمدنی پر زکوۃ واجب ہوگی۔

حوالہ جات

*الدر المختار:(126/1،ط: دارالفكر)*
(ولا في ثياب البدن) المحتاج إليها لدفع الحر والبرد، ابن ملك (وأثاث المنزل ودور السكنى ونحوها) وكذا الكتب وإن لم تكن لاهلها إذا لم تنو للتجارة، غير أن الاهل له أخذ الزكاة وإن ساوت نصبا.

*الھندیة:(172/1،ط: دار الفكر )*
(ومنها فراغ المال) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة.

*وأيضاً:(180/1،ط: دارالفكر)*
ولو اشترى قدورا من صفر يمسكها ويؤاجرها لا تجب فيها الزكاة كما لا تجب في بيوت الغلة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
67
فتوی نمبر 940کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --