احکام عدت

شوہر کے رخصتی سے پہلے فوت ہونے کی صورت میں بیوی کی عدت کا حکم

فتوی نمبر :
2235
معاملات / عدت نان و نفقہ / احکام عدت

شوہر کے رخصتی سے پہلے فوت ہونے کی صورت میں بیوی کی عدت کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیا ن کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی شخص کا نکاح ہو جائے اور رخصتی سے پہلے اس کا انتقال ہو جائے ،تو اس کی بیوی پر عدت لازم ہو گی یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے چاہے اس کے شوہر نے اس کے ساتھ خلوت صحیحہ کی ہو یا نہ کی ہو اور عورت چاہےبڑی ہو یا چھوٹی اس پر عدت لازم ہے ،پوچھی گئی صورت میں نکاح ہو چکا ہے اس لیے اس عورت پر چار ماہ دس دن کی عدت واجب ہے۔

حوالہ جات

سنن النسائي: (6/ 383، رقم الحديث: 3532، ط:دارالرسالة العالمية )
عن سَعْد بن إسحاقَ قال: حدَّثَتْني زينبُ بنتُ كعبٍ قالت:حدَّثَتْني فُرَيْعَةُ بنتُ مالك أختُ أبي سعيد الخدريِّ قالت: توفِّي زوجي بالقَدُومِ، فأتيتُ النبيَّ صلى الله عليه وسلم فذكرتُ له أن دارَنا شاسِعةٌ، فَأَذِنَ لها، ثم دَعَاها، فقال: "امْكُثي في بيتِكِ أربعة أشهرٍ وعشرًا حتى يَبْلُغَ الكتابُ أجَلَهُ".

الهندية: (1/ 529، ط: دارالفكر)
عدة ‌الحرة ‌في ‌الوفاة أربعة أشهر وعشرة أيام سواء كانت مدخولا بها أو لا مسلمة أو كتابية تحت مسلم صغيرة أو كبيرة أو آيسة وزوجها حر أو عبد حاضت في هذه المدة أو لم تحض ولم يظهر حبلها كذا في فتح القدير. هذه العدة لا تجب إلا في نكاح صحيح كذا في السراج الوهاج.

الأصل لمحمد بن الحسن: (2/ 542، ط: دار ابن حزم )
وقال محمد في ذلك: أُوَقِّتُ ‌عدة ‌الحرة ‌في ‌الوفاة أربعة أشهر وعشراً إذا ارتفع حيضها، فلا يدرى أحامل هي أو غير حامل، فإذا استبان حملها في الأربعة الأشهر والعشر فلا يقربها حتى تضع، فإن لم يستبن فلا بأس بأن يقربها.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
3
فتوی نمبر 2235کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --