السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکتہ
سوال : عدت کی شرعی حیثیت کیا ہے ? نیز عدت کے ایام اصولوں کے مطابق نا گزارنے والیوں کے لئے شریعت کی طرف سے کیا ڈانٹ ڈپٹ ہے مفصل ارشاد فرمادیں ؟
جزاکم اللہ تعالی احسن الجزآء فی الدارین
واضح رہے کہ عورت پر عدت گزارنا فرض ہے ،بغیر کسی عذر کے عدت کی پابندیوں کا خیال نہ رکھنا ناجائز اور حرام ہے، لہذا عدت کی پابندیوں کا خیال نہ رکھنے سے عورت گناہ گار ہوئی، اسے چاہیے کہ کثرت سے توبہ واستغفار کرے۔
القرآن الكريم:(البقرة228:1)*
وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلاثَةَ قُرُوءٍ وَلا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلاحًا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
*شرح مختصر الطحاوی:(248/5،ط:دارالبشائرالاسلامية)*
قال: (والعدة واجبة من يوم الطلاق، ويوم الموت).
وذلك لقول الله تعالى: {والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء}، فأوجب الأقراء في وقت الطلاق.