احکام عدت

عدت کی شرعی حیثیت

فتوی نمبر :
323
معاملات / عدت نان و نفقہ / احکام عدت

عدت کی شرعی حیثیت

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکتہ
سوال : عدت کی شرعی حیثیت کیا ہے ? نیز عدت کے ایام اصولوں کے مطابق نا گزارنے والیوں کے لئے شریعت کی طرف سے کیا ڈانٹ ڈپٹ ہے مفصل ارشاد فرمادیں ؟
جزاکم اللہ تعالی احسن الجزآء فی الدارین

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ عورت پر عدت گزارنا فرض ہے ،بغیر کسی عذر کے عدت کی پابندیوں کا خیال نہ رکھنا ناجائز اور حرام ہے، لہذا عدت کی پابندیوں کا خیال نہ رکھنے سے عورت گناہ گار ہوئی، اسے چاہیے کہ کثرت سے توبہ واستغفار کرے۔

حوالہ جات

القرآن الكريم:(البقرة228:1)*
وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلاثَةَ قُرُوءٍ وَلا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ إِنْ كُنَّ يُؤْمِنَّ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلاحًا وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ

*شرح مختصر الطحاوی:(248/5،ط:دارالبشائرالاسلامية)*
قال: (والعدة واجبة من يوم الطلاق، ويوم الموت).

وذلك لقول الله تعالى: {والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء}، فأوجب الأقراء في وقت الطلاق.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
104
فتوی نمبر 323کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --